ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / موت کی سزا کے ساتھ انصاف کے عمل کو یقینی بنانے کی ضرورت :ملی کونسل

موت کی سزا کے ساتھ انصاف کے عمل کو یقینی بنانے کی ضرورت :ملی کونسل

Tue, 24 Apr 2018 11:48:23    S.O. News Service

نئی دہلی ،23؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )عصمت دری کے بڑھتے واقعات کو روکنے اور 12 سال سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ ریپ کے قصورواروں کو موت کی سزادینے کے لیے مودی سر کا رکے ذریعہ لائے گئے آر ڈیننس کا آل انڈیا ملی کونسل نے خیر مقدم کیاہے اور کہاہے کہ ریپ کے بڑھتے سلسلہ کو روکنے کیلئے یہ ایک مناسب قدم ہے ۔ملی کونسل کے جنرل سکریٹی ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہا دیرسے اٹھایاگیاسہی لیکن مناسب ہے تاہم یہ سوال بھی ہے کہ اسے بارہ سال محدود کیوں رکھاگیاہے ، 15 سال کی بچیوں کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آئے گا تو اس وقت مجرم کو کیا سزادی جائے گی ۔جرائم میں کسی طرح کی تفریق نہیں ہونی چاہیئے ۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ کیا حکومت واقعی سنجیدہ ہے یا پھر سیاسی مقصد کے تحت یہ سب کررہی ہے کیوں کہ یہ بھی سچائی ہے کہ ریپ کے واقعات میں کئی بی جے پی لیڈران یا ان کے قریبی ملوث ہیں جن پر بمشکل ایف آئی آر در ج ہوپاتی ہے ،یہ سوال اس لئے بھی پیدا ہورہاہے کہ ایک طرف تو حکومت اقراری مجرموں کو رہا کروارہی ہے دوسری طرف سزا دلوانے کی بات کررہی ہے ۔پولس اور تفتیشی ایجنسیاں بھی بعض دفعہ متاثرین کو انصاف دلانے اور صحیح رخ میں تفتیش کرنے کے بجائے ثبوت کو مٹانے کی کوشش کرتی ہے ،حالیہ کٹھوعہ سانح میں بھی ابتداء کے دنوں میں جموں کشمیر کی جس پولیس کو تفتیش کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اس نے ثبوت مٹانے کی کوشش کی تھی ۔ڈاکٹرمحمد منظور عالم مزید نے کہاکہ ریپ کے بڑھتے واقعات کیلئے ذمہ دار بھی موجودہ حکومت ہے ،گذشتہ دنوں ریپ کے حوالے سے این سی آر بی کی جورپوٹ آئے ہی ہے اس نے واضح کردیاہے کہ دیگر معاملوں میں ناکامی کے ساتھ ریپ اور جنسی تشدد کے واقعات کو بھی روکنے میں یہ حکومت ناکام رہی ہے ۔ 2013 سے 2016 کے دوران تین برسوں میں بچوں کے خلاف جرائم کے واقعات میں 84 فیصد کا اضافہ ہوا اور ان میں سے 34 فیصد جنسی تشدد کے معاملے ہیں۔ 2012 میں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی 8،541 واردات ہوئی جو 2016 میں بڑھ کر 19،765 ہو گئی۔ 2012 میں جسمانی استحصال کی منشا سے نابالغ بچیوں کو بہلا پھسلا کر لے جانے کے 809 واقعات ہوئے جو 2016 میں بڑھ کر 2465 ہو گئے۔ اس مدت میں بچوں کے اغوا کے واقعات 18266 سے بڑھ کر 54723 ہو گئے۔2016 میں جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون پوسکو کے تحت 48060 معاملے تفتیش کے لئے درج کئے گئے جن میں سے صرف 30851 معاملے میں سماعت کے لئے عدالت پیش کئے گئے، یعنی 36 فیصد کیس تحقیقات کے لئے زیر التواء تھے۔ 2014۔16 کے دوران پوسکو کے تحت 30 فیصد قصوروار گردانے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں بچیوں اور خواتین کے ساتھ آبروریزی کی کل 36 ہزار 657 کیس درج کئے گئے ہیں ۔ڈاکٹر عالم نے مزید کہاکہ یہ اعدا د وشمار انتہائی شرمناک اور ہندوستان کیلئے بدنما دھبہ ہے ،اس کے مطابق یومیہ ملک میں 55 لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات پیش آتے ہیں۔حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو اسے باضابطہ طور پر پارلیمنٹ میں پیش کرے ،فاسٹ ٹریک عدالتوں میں مقدمہ کی سماعت کرائے ، بلاتفریق اپنی پارٹیوں کے ملوث لیڈران کو بھی سزا دے ۔جو لوگ زانیوں کی حمایت کررہے ہیں ،خواتین کے خلاف شرمناک بیانات دے رہے ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے ۔ ایسا نہیں ہو کہ قانون کا غذ کا ایک ٹکر ابن جائے بلکہ متاثر ین کو انصاف دینے اور مجرموں کو انجام تک پہونچانے کیلئے قانون کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انتظامیہ کو فعال کیاجائے ،پولس اور تحقیقاتی ایجنسیاں انصاف کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائے اورانہیں اس کا خصوصی پابند بنایاجائے ۔یعنی ثبوت جرم سے قبل کے جومراحل ہیں اس میں مکمل ایمانداری اورسچائی کو یقینی بنایاجائے ۔


Share: